کاٹھ کباڑ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - فضول سامان، (عموماً) گھر کی بے کار چیزیں۔ "نیچے کے تین کمروں میں کاٹھ کباڑ بھرا ہوا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، صدیوں کی زنجیر، ٢٥٧ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'کاٹھ کے بعد سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'کباڑ' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٣٢ء کو "اعجاز لوح" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فضول سامان، (عموماً) گھر کی بے کار چیزیں۔ "نیچے کے تین کمروں میں کاٹھ کباڑ بھرا ہوا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، صدیوں کی زنجیر، ٢٥٧ )

جنس: مذکر